20 ڈالر، یا 20 ارب ڈالر

Spread the love


كيا جورج فلائڈ صدر ڈونالڈ ٹرمپ كے لئے محمد بوعزيزى ثابت ہوں گے؟

عماره رضوان
نئى دہلى

تقريباً دس سال پہلے تيونس كے شہر سيد بوزيد ميں ميونسپل كارپوريشن كے عالى شان دفتر كے سامنے 17/دسمبر 2010 ايك مقامى نوجوان محمد بوعزيزى نے خود كو آگ لگا لیا تھا ، وه مقامى پوليس كے رويہ سے بڑا شاكى تھا ، وه جس ٹھيلے پر سبزى ركھ كر گلى گلى ميں آواز لگا كر بيچا كرتا تھا ، اس ٹھيلے كو پوليس نے توڑكر زمين پر سبزياں انڈيل دى تھيں اور اپنے بوٹوں سے اس كو روند ديا تھا۔ يہى ٹھيلا بوعزيزى كے پورے گھر كى كفالت كا ضامن تھا۔ پوليس كے اس رويّہ سے بوعزيزى اتنا كبيدہ خاطر ہوا كہ اس نے موت كو زندگى پر ترجيح دى ليكن اس كى موت پورى قوم كو جينے كا ہنر دے گئى۔ صرف تيونس كے حدودِ اربعہ ميں ہى نہيں بلكہ پورے مشرق وسطى ميں نوجوان سڑكوں پر نكل آئے اور كئى دہوں سے مسند اقتدار پر براجمان ڈكٹيٹروں كو اكھاڑ پھينكا ، تيونس كے زين العابدين ، ليبيا كےقذافى ، مصر كے حسنى مبارك اور يمن كے عبد الله صالح سب بوعزيزى كے جسم سے اٹھنے والى لپٹوں ميں جھلس گئے اور سب كچھ خاكستر ہوگيا ، شام كا بشار الأسد بھى اس عوامى سيلاب كے سامنے رک نہيں سكتا تھا اگر علاقے كى قوتيں اس ميں دخل نہ ديتيں ، ايران اور روس كى پسِ پرده فوجى مداخلت نے عوامى قوت كا پانسہ پلٹ ديا ، اور پھر علاقے كى دوسرى قوتيں بھی اپنے اپنے مصالح كے لحاظ سے عوامى تحريک كو سبوتاژ كرنے كے لئے كود پڑيں۔
30/ مئى كى صبح امريكى شہر مينيا پوليس كے ايك قہوه خانےميں ايك سياه فام امريكى داخل ہوا اور كافى كى چسكيوں كے ساتھ قہوه خانے كے باہر دوسرے ہاتھ سے سگريٹ كے دھوئيں كو ہوا ميں اڑا رہا تھا ، وه اپنے سامنے جلتى ہوئى كاروں سے اٹھتے ہوئے دھوئيں كو بہت كرب سے ديكھ رہا تها ، ايسا لگ رہا تھا كہ وه سگريٹ كے دھوئيں سے جلتى ہوئى كار كے دھوئيں سے موازنہ كررہا ہے۔ وه بار بار منہ ہى منہ ميں بڑبڑا رہا تھا كہ يہ شہر تو ايسا نہيں تھا ، تشدّد كے اكّا دكّا واقعات كے علاوه تو پورا شہر بڑا ہى پرسكون تھا ، آخر يہ سب كيسے ہوگيا۔
دو دن پہلے ہى اسى شہر ميں چھياليس سالہ سياه فام امريكى كو پوليس كى زيادتى كا شكار ہونا پڑا ، اس سياه فام كا ايك كيفے كےسفيد فام امريكى مالك سے 20 ڈالر كے معمولى رقم پر تكرار ہوگئى تھى ، جس پر كيفے مالك نے پوليس بلا ليا تھا ، ڈيريك شووين نامى پوليس اہلكار نے اپنے ديگر چار ساتھيوں كے ساتھ مل كر زمين پر پٹخ ديا اور اس كى گردن پر اس وقت تك اپنےپيروں كو دبائے ركھا جب تك كہ وه بے سُدھ نہيں ہوگيا ، اتفاق سے اس پورے غير انسانى عمل كو پاس كا ايك نوجوان اپنے موبائل سے قيد كر رہا تھا ، ويڈيو كلپ سے اندازه ہوتا ہے كہ ڈيريك نے آٹھ منٹ اور 46 سيكينڈ تك جورج كو اپنے پيروں تلے دبائے ركھا۔ اور اس وقت اس كى جان چھوڑى جب وه سڑك پر ہى اپنى جان سے ہاتھ دھو بيٹھا۔
يہ ويڈيو كلپ آگ كى تيزى سے امريكى سوشل ميڈيا ميں گردش كرنے لگا ، اور سياه فام امريكى سڑكوں پر اترنے لگے ، شروع ميں يہ مظاہرے پرامن رہے ، مگر دھيرے دھيرے مظاہروں نے تشدد كا رنگ اختيار كرليا۔ يہاں تك كہ وہائٹ ہاؤس كو بھى اس پورے معاملے پر بيان جارى كرنا پڑا اور فورى طور پر چاروں پوليس اہلكاروں كو معزول كرنا پڑا۔ امريكى صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے احتجاج كى شدت كو ديكھتے ہوئے جمعہ كو وہائٹ ہاؤس كو بھى بند كرنے كا حكم صادر كرديا ، كيونكہ سيكڑوں كى تعداد ميں مظاہرين وہائٹ ہاؤس كى گيٹ تك پہونچ گئے تھے ، امريكى صدر نے جورج فلائڈ كے اہل خانہ سے بھی گفتگو كى اور ان كو دلاسہ ديا ، مگر صدر ٹرمپ كى كوششيں مظاہرين كے غصے كو ٹھنڈا كرنے ميں ابھى تك ناكام ثابت ہوئى ہيں ، بلكہ اس كى شدّت ميں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، اور دھيرے دھيرے پورے امريكى رياست كو اپنے لپيٹے ميں لے رہا ہے ، بالآخر صدر ٹرمپ كو دھمكى آميز انداز ميں ٹويٹ كرنا پڑا كہ لوٹ مار اور تشدد كے سامنے قوت كا استعمال ہمارى پوليس كى مجبورى ہے۔
امريكى معاشرہ ميں سياه اور سفيد كے درميان پائى جانى والى خليج نئى نہيں ہے ، اٹھائيس سالہ سياه فام امريكى نائمن اس ہمہ گير مظاہرے پر تبصره كرتے ہوئے كہتے ہيں كہ "سفيد فاموں كى طرف سے زيادتى كوئى نئى بات نہيں ہے ، ايسا ہر روز ہوتا رہتا ہے ، اس حادثے كے ساتھ يہ بات ہوئى كہ يہ لوگوں كے علم ميں آگيا اور پھر اندر اُبال كھانے والا غصّہ باہر سڑكوں پر آگيا ورنہ ہرروز سياه فام اس طرح كى زبادتيوں كے شكار ہوتے رہتے ہيں ، اس واقعے نے جلتى پر تيل كا كم كيا ہے "
اسى سے ملتا جلتا ايك واقعہ 2017 ميں بھى اسى شہر ميں پيش آياتھا جب ايك سياہ فام امريكى نسلى تعصب كا شكار ہوا جب اس نے مقامى پوليس سے جنسى زيادتى كى شكايت كى اور اور پوليس كى جانب سے وه شكايت كے بدلے گولى كا شكار ہوا۔ يہ واقعہ بهى مقامى ميڈيا كى سہ سرخى بنا مگر اس نے احتجاج كى شكل اختيار نہ كى۔ 2015 كے اوائل ميں بھى سفيد فام پوليس كى دہشت گردى كا شكار ايك چوبيس سالہ نوجوان كلارك ہوا جب اس نے پوليس سے سخت زبان ميں بات كرلى تھى۔
احتجاج كى آگ اب كہيں شہروں تك پہونچ چكى ہے ،دارالحكومت واشنگٹن سے لے كر شكاگو ، نيويارك ، لا س اينجلس اور ديگر امريكى شہر بهى اب اس كى چپيٹ ميں آچكے ہيں ، كئى شہروں ميں مظاہرين كوقابو كرنے كے لئے آنسو گيس اور ربر كى گوليوں كا استعمال كيا گيا ہے –
يہ مظاہرے ايسے وقت ميں ہورہے ہيں جب دنيا كى سپر پاور كرونا سے سب سے زياده متاثر ہے اور صدر ٹرمپ دن بدن اپنى مقبوليت كھوتے جارہے ہيں ، بے روزگارى نے اپنے سابقہ ريكارڈ توڑ دئے ہيں ، روٹى بينك و فوڈ بينك كے سامنے امريكيوں كى اچھى خاصى تعداد قطار ميں لگى ہوئى ديكھى جاسكتى ہے ، ايك لاكھ سے زائد امريكى كورونا كے شكار ہوچكے ہيں اور صدر ٹرمپ پر لاپروائى كا الزام برابر لگ رہاہے ، ابھى صدر ٹرمپ اسى چيلينج سے نبردآزما تھے كہ جارج فلائڈ كى موت سے نكلنے والے ملك گير احتجاج نے صدر ٹرمپ كى پيشانى پر بَل لا ديا ہے – ايسے ميں صدر ٹرمپ كى چين مخالف پاليسى ان كو كتنا فائده پہونچائے گی۔
20 ڈالرسے شروع ہونے والى تكرار نے اب تك 20 ارب ڈالر كا نقصان كرديا ہے ، اور لگتا نہيں ہے كہ يہ آگ اتنى جلد سرد پڑےگى ، اب تو ان مظاہرين كى تائيد ميں لندن ، پيرس اور ٹورنٹو ميں بهى مظاہرے شروع ہو گئے ہيں۔
يہ ديكھنا دلچسپ ہوگا كہ آئنده نومبر ميں ہونے والے انتخاب ميں صدر ٹرمپ دوسرى مدّت كے لئے منتخب ہوپاتے ہيں يا پھر مشرق وسطى كے حكمرانوں كى طرح و ه بھى تاريخ كے صفحات تك محدود ہوجائيں گے۔

*مضمون نگار جامعہ سينئر سيكنڈرى ميں بارہويں كلاس كى طالبہ ہيں
[email protected]

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے