ہادیہ: ایک نو مسلم لڑکی

Spread the love


ٹیوئیٹر پہ آئیے اور #BraveHadiya ہیش ٹیگ کو ٹرینڈ کرنے میں مدد کیجئے، یاد رکھیں کہ آپ کا ایک ٹویٹ کسی کو انصاف دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے.
اس لڑکی کی پوری کہانی کچھ دنوں پہلے انڈین ایکسپریس نے شائع کی تھی، مکمل پورے ایک پیج میں، بہت ہی حوصلہ افزا کہانی ہے، اسلام کے راستے میں آنے والے بے انتہا تکلیفوں کی ایک پوری داستان ہے، میں اس کہانی کو مکمل تو نہیں لکھ پاؤں گا، لیکن اس کے بارے میں مختصرا لکھ دیتا ہوں.
ہادیہ ایک نو مسلم لڑکی ہے، اس کے والد ملحد اور دین بیزار قسم کے انسان تھے، اور والدہ کٹر ہندو تھیں، گھر میں مختلف نظریات ہونے کی وجہ سے بچپن سے ہادیہ کا ذہن بہت پریشان رہتا تھا، اور ذہنی سکون کی تلاش میں ادھر ادھر مذہبی کتابوں میں اپنا دماغ لگاتی رہتی تھی، میڈیکل کی پڑھائی کے لئے اس نے ایک کالج میں ایڈمیشن لیا، وہیں اس کی ملاقات دو مسلم لڑکیوں سے ہوئی، گزرتے وقتوں کے ساتھ وہ دونوں اس کی اچھی دوست بن گئیں، وہ ان دونوں کو نماز پڑھا کرتے دیکھا کرتی تھی تو بڑی متاثر ہوتی تھی، ایک دن اس نے ان دونوں سے اس کی مذہبی کتاب مانگی، انہوں نے ملیالم زبان میں قران اسے مہیا کردی، جوں جوں یہ پڑھتی گئی، اس کا دل دماغ روشن ہوتا گیا، بالآخر اس کا زبان بول پڑا، "لا الہ الا اللہ، محمد رسول اللہ”، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد اس پہ مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا، گھر والے مخالف ہوگئے، اس پہ زور ڈالنے لگے، میڈیکل کی پڑھائی بھی چھڑوانے کی دھمکی دی، کسی طرح ان سے بچ بچا کے اپنی دونوں سہیلوں کے گھر بھاگ آئی، اس کے سہیلیوں کے والد مصطفی نے اس کو بہت سمجھانے کی کہ کہیں وہ کسی لالچ یا دباؤ کے تحت تو اسلام قبول نہیں کررہی، مگر وہ کسی بھی صورت نہ مانی، مانتی بھی کیسے، اسلام کی شمع جو دل میں روشن ہوچکی تھی، بالآخر اس کے گھر والوں نے مصطفی پہ ان کی لڑکی کو بہلا پھسلا کر اسلام قبول کروالینے کا الزام لگا دیا، جس کی وجہ سے مصطفی کو جیل جانا پڑا، پھر اس کے بعد ہادیہ ایک اسلامی انسٹیٹوشن میں بیسک اسلامیات کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے ایڈمیشن لے لیا، پھر اس کے بعد کسی طرح زینب نامی ایک خاتون کے کانٹیکٹ میں آئیں جو نو مسلم عورتوں اور دیگر گھر سے مجبور اور بے سہارا عورتوں کے لئے ایک تنظیم چلاتیں ہیں، انہوں نے اس کی شادی ایک شیفین نامی لڑکے سے کرا دیا، جو اسلامک اسٹڈیز سے گریجویٹ ہے، اور مسقط عمان میں ایک کاروباری فرم میں بطور مینجر کام کرتا تھا، ہادیہ گھر والوں نے یہ الزام لگا دیا کہ داعش میں شامل ہونے کے لئے اس کی برین واشنگ کی گئی ہے، اور اس میں کئی لوگوں کا ہاتھ ہے، اسی وجہ سے عرب ملک میں کام کرنے والے ایک نوجوان سے اس کے نکاح کا ڈرامہ کیا گیا ہے تاکہ اسے ملک سے باہر نکال کر سیریا پہونچانے میں آسانی ہوجائے، لوکل پولیس نے پوری باریک بینی سے اس کا جائزہ لیا، مگر شادی میں، اور لڑکے کے کیریکٹر یا اس کی اصلیت میں کچھ بھی نقص یا شبہ نہیں پایا، انہوں نے باریک بینی سے جائزہ لیا کہ کہیں نکاح خفیہ طریقے سے تو نہیں کیا گیا، مگر معلوم ہوا کہ نکاح مکمل طریقے سے اعلانیہ طور پہ ہوا جس میں لڑکے کے رشتے دار اور لڑکے کے جام پہچان کے لوگ اور کمیونٹی کے دیگر ذمہ دار افراد بھی شامل تھے.
پھر گھر والوں نے اس معاملے میں کیرالا ہائی کورٹ کو اپروچ کیا، اس میں چونکہ داعش کا نام تھا، جو کہ ملک کی سیکورٹی اور انٹیگرٹی کے لئے خطرہ بن سکتا تھا، اسی لئے ہائی کورٹ نے NIA کو معاملے کے جانچ کی ذمہ داری سونپ دی. NIA نے ہادیہ کو ایک سال کے لئے جیل بھیج دیا ہے، ٹوئیٹر پہ اس کی حمایت کے لئے ٹوئیٹر پہ سرگرم کچھ لوگوں کی جانب سے یہ ہیش ٹیگ چلایا گیا ہے تاکہ دنیا کو بتایا جاسکے کہ مذہب کی آزادی کے نام پہ ہندوستان میں صرف ڈھکوسلہ ہورہا ہے.
آپ لوگ بھی ٹوئیٹر پہ جائیں اور انصاف کی اس لڑائی میں آواز بنیں، ایسی آواز جو حکومت، میڈیا، اور پرنٹ میڈیا کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لے، اور ہادیہ کی کہانی کو گھر گھر اور بچے بچے کی زبان تک پہونچا دے.

عزیر احمد
جواہر لال نہرو یونیورسٹی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے