پردہ کے خلاف ہنگامہ کیوں؟

Spread the love

ایک بار پھر پردے کو پردہ وجود پہ لانے کی تیاری ہے، شطرنج کی بساط بچھائی جا چکی ہے، مہرے بھی مل چکے ہیں، ٹی.وی چینلوں پہ بحث و مباحثے شروع ہوگئے ہیں، ایمان فروش کی لمبی لسٹ دستیاب ہوچکی ہے، ماڈرن پرست عورتوں کی بھی کمی نہیں ہے، طلاق پہ پابندی لگاتے لگاتے علماء سے پردے پہ پابندی کا مطالبہ شروع ہوچکا ہے، نجانے ابھی اور کیا کیا گل کھلے، مجھے بس افسوس اس بات کا ہے کہ جتنے کمیونسٹ اور جدید نظریات کے حامی لوگ ہیں، آخر ان کو پردے سے پریشانی کیوں ہوتی ہے، ایک طرف وہ حقوق انسانی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہر انسان کو اپنے قائم کردہ خطوطوں کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے، وہیں دوسری طرف ایک مسلم عورت کو پردے میں دیکھتے ہی ان کے چہرے کیوں سیاہ پڑجاتے ہیں، اس کو کیوں نہیں اس کے رب کے قائم کردہ اصولوں کے مطابق جینے دیتے ہیں _
اگر کوئی عورت پردہ نہیں کررہی ہے تو ٹھیک ہے، اس کی زندگی ہے، اس کی مرضی ہے، جیسا چاہے جئیے، کوئی شخص کسی کے اعمال کا ذمہ دار نہیں، اور نہ ہی کوئی کسی پہ نگراں اور نگہبان بناکے بھیجا گیا، حلال و حرام واضح ہیں، دین کے معاملات سورج کی طرح روشن ہیں، کسی پہ کوئی زور و زبردستی نہیں، لیکن اگر کوئی پردہ کررہی ہے تو پھر اینٹھن چہ معنی دارد، اس کی اپنی زندگی ہے، اگر وہ اپنے رب کی مرضی کے مطابق گزار رہی ہے تو دہریوں، کمینسٹوں اور لادینوں کو پریشانی کیوں _
پردے کے سلسلے میں اسلام کے واضح احکامات موجود ہیں، بہت افسوس ہوتا ہے جب اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے مسلم بہنوں کو دیکھتے ہیں، بے ساختہ ذہن میں یہ بات آجاتی ہے کہ عورتیں واقعی ناقصات العقل ہیں، مردوں کے خوبصورت لفظوں کے جال میں پھنس کر کب ان کے کپڑے مختصر ہوگئے ان کو احساس تک نہیں ہوا، Women Empowerment, Gender Justice, Women Rights, اور Feminism وغیرہ جیسے نعروں نے ان کو گھروں سے نکال کر شمع محفل بنادیا، مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش نے ان سے ان کی نزاکت، ان کا زنانہ پن سب کچھ چھین لیا _
کبھی یوروپ میں عورتوں کی بھی مملکت ہوا کرتی تھی، جس کی وہ تنہا ملکہ ہوتیں تھیں، پھر وقت بدلے، حالات بدلے، ترقی اور روشن خیالی نے گھر میں جگہ بنائی، ایک طرف پوری دنیا میں یوروپ کا سکہ چلنے لگا، دوسری طرف عورتوں کے کپڑے اترنے لگے، عزتیں بے معنی ہوکے رہ گئیں، عصمتوں کا پاس و لحاظ ختم ہوگیا، مرد بھیڑیے بن گئے، آزادی نسواں کے نام پہ عورتوں کو احمق بناکر من چاہی عورتوں کا حصول آسان ہوگیا، شرم و حیا کا نام ونشان مٹ گیا، اخلاقیات عنقا ہوگئے، ذہنی حالت اس قدر تباہ ہوگئی کہ جو کام لوگ رات کی تنہائی بھی کرنے سے کسی زمانے میں شرماتے تھے، اب وہ دن کے اجالوں میں، پبلک مقامات پر بھی انجام دئیے جانے لگے، سیکس کا کارو بار شروع ہوگیا، ہزاروں پورن ویب سائٹس وجود میں ہوگئے، پھر نتیجہ بڑا بھیانک نکلا، نسل انسانی درہم برہم ہوگئی، ناجائز اولادوں کی کثرت ہوگئی، بغیر شادی ہوئے ماں بننے کا تناسب بڑھ گیا، آج حالت یہ ہے کہ لاکھوں کروڑوں بچوں یوروپ میں ایسے ہیں جن کے باپوں کا کوئی پتہ نہیں _
حقیقت یہی ہے کہ فطرت سے بغاوت کا انجام بڑا خطرناک ہوتا ہے، دیر یا سویر اس کے نتائج ضرور دیکھنے کو ملتے ہیں _
حقوق نسواں کے لئے جتنے بھی خوبصورت لفظوں کا استعمال آج کے دور میں کیا جاتا ہے اب سب کے پیچھے نہایت ہی مکروہ معانی چھپے ہوئے ہیں، عورتوں کی آزادی کا مطلب ان تک بلا روک و ٹوک پہونچنے کی آزادی ہے، ان پہ جنسی خواہشات کے بے لگام گھوڑے دوڑانے ہیں، ان کی عصمتوں کو چھین کر انہیں بے حیا، بے شرم بنا دینا ہے، دنیا کی چمک دمک میں الجھا کر انہیں اخلاقیات سے عاری بنادینا ہے، حسین خواب دکھا کر خاندان اور فیملی کی جھنجھٹوں سے آزاد کردینا ہے، اور یہی بات عورتیں نہیں سمجھ پاتیں ہیں، اور ان لفظوں کے جال میں پھنس کر اپنا سمجھ کچھ گنوا بیٹھتیں ہیں، اگر کبھی ہوش بھی آتا ہے تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے، پھر نہ وہ گھر کی رہتی ہیں اور نہ ہی گھاٹ کی، کاش عورتیں سمجھ لیں کہ آزادی آزادی کے نعرے سراب کے سوا کچھ نہیں، ہر چیز سے آزاد تو جانور ہوتا ہے، انسان کی فطرت میں تو اخلاقی قدروں سے وابستگی، اور رسم رواج کا دلدادہ ہونا ہے _

عزیر احمد
جواہر لال نہرو یونیورسٹی
6 دسمبر 2016

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے