اسلام اور ریاست: دین اور سیاست

Spread the love

۱۰ جولائی ۲۰۱۷ (عزیر احمد، بلاگ)
کفر کے ساتھ حکومتیں قائم رہ سکتی ہیں، مگر ظلم کے ساتھ نہیں، اگر کوئی حکومت کافر ہے، یا موجودہ دور میں سیکولر ہے، تو مسلمانوں کا اس میں رہنا کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے، بشرطیکہ انہیں اپنے مذہب پہ عمل کرنے کی مکمل آزادی ہو.
اسلام میں ریاست بنانے سے زیادہ امن و امان پہ توجہ دی گئی ہے، توحید کے نفاذ کے لئے حاکمیت الہ یا مسلم ریاست شرط نہیں ہے، ہاں حدود کے نفاذ کے لئے ضروری ہے، لیکن اگر مسلم ریاست بنانا نہ بنانے سے زیادہ خطرے کا باعث ہو، اور جانی و مالی نقصان کا سبب بننے والا ہو، تو بعض حدود سے سقوط اختیار کیا جاسکتا ہے، مگر اس کا شرعی طور پہ انکار نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ انکار یہ اسلامی احکام سے بغاوت کے مترادف ہے، مثال کے طور پہ ہندوستان کو لے لیجئے، یہاں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے، لیکن یہاں نہ زنا پہ کوڑے گائے جاتے ہیں، اور نہ ہی رجم کیا جاتا ہے، نہ کبھی چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمان اس کا انکار کرتے ہیں، بلکہ اس سے مصلحت کی بنیاد پہ تنازل اور کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ وہ حدود کا نفاذ تو نہیں کرپاتے ہیں مگر پھر بھی اس بات کی کوشش اور سعی نہیں کرتے ہیں کہ لاؤ ایک نئے ریاست کی مانگ کی جائے، تاکہ مکمل طریقے سے اسلامی احکام کا نفاذ ہوسکے، کیونکہ یہ بات بخوبی طور پہ معلوم ہے کہ اسلامی ریاست بنانے کے لئے انہیں اتنی قربانی دینی پڑے گی کہ اس کا نقصان اس کے فائدے سے بڑھ کے ہوجائے گا، لاکھوں جانیں چلی جائیں گی، اربوں کھربوں کی جائیداد کا نقصان ہوجائے گا، اور یہ کوئی ہوائی بات نہیں ہے 1947 میں اس کا بخوبی تجربہ ہوچکا ہے، پاکستان کی مانگ مسلم لیگ کی کتنی بڑی غلطی تھی، تاریخ اسے ثابت کرچکی ہے.
اسلام میں حکومت کبھی بھی مطمح نظر رہا ہی نہیں، امن و امان کی بالادستی ہی سب کچھ ہے، اگر کوئی سیکولر یا کافر حکومت ہے، اور مسلمان اس ریاست میں رہ رہے ہیں، وہ ان کو مکمل آزادی دے رہی ہے تو پھر ان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اسے توڑ کر الگ حکومت بنانے کی کوشش کریں، ہاں اگر وہ حکومت ظلم کرے، انہیں ان کے مذہب پہ عمل کرنے سے روک دے، تو پھر ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ لڑنے جھگڑنے اور پتھیار اٹھانے کے بجائے اس جگہ سے ہجرت کرکے ایسی جگہ چلے جائیں جو مسلمانوں کی بستی ہو، جہاں وہ آزادی سے اسلام پہ عمل کرسکیں، لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر آخری ہتھیار کے طور پہ ہتھیار اٹھا سکتے ہیں، جتنا ممکن ہو، کشت و خون سے احتراز ضروری ہے، خاص کر اس وقت جب کہ وہ اقلیت میں ہوں.
مسلم ریاست کو وجود پذیر بخشنے کی کوششوں سے بہتر "دعوت و تبلیغ” ہے، اور یہ کام غیر مسلموں ہی میں رہ کر بخوبی انجام دیا جاسکتا ہے، اگر ایک بھی غیر مسلم کسی کی کوششوں سے اسلام قبول کرلیتا ہے تو یہ سو مسلم ریاستوں سے بہتر ہے، ہندوستان میں آزادی کے بعد جتنی تیزی سے دعوت و تبلیغ پہ کام ہوا ہے، اتنا تو مسلم حکومتوں کی موجودگی میں بھی نہیں ہوا، اور اسی دعوت کا اثر ہے کہ الحمد للہ آج جگہ جگہ مسلمانوں کی مسجدیں جا بجا نظر آتیں ہیں، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگ اسلام قبول کرتے جارہے ہیں، جب مسلمانوں کے غیر مسلموں سے رابطے اور تعلقات رہیں گے، تو غیر مسلم ان کو دیکھیں گے پرکھیں گے اور ان کے ذریعہ ان کے مذہب کو سمجھنے کی کوشش کریں گے، لیکن اگر یہی مسلمان ان سے الگ ہوکے الگ ریاست بنالیں تو یہ جان ہی نہیں پائیں گے کہ مسلمان نام کی بھی کوئی مخلوق اس دنیا میں پائی جاتی ہے، مثال کے طور پہ لیگیوں نے اسلام کے نام پہ پاکستان کو بناڈالا، ایک لمحے کے لئے سوچئے کہ اگر سارے مسلمان پاکستان میں چلے گئے ہوتے تو اللہ کے وہ بندے جو ہندوستان میں مسلمان ہوئے، کیا وہ اسلام کی روشنی سے منور ہوپاتے، اسلام تو آیا ہے لوگوں کو ضلالت و گمراہی کے گڑھوں سے نکال کر راہ راست کا ہمراہی بنانے کے لئے، اگر مسلمان اس فریضے کو انجام نہیں دیں گے، اور دلوں کو فتح کرنے کے بجائے چھوٹی چھوٹی ریاستوں پہ راضی ہوجائیں گے تو پھر ان کو راستہ کون دکھائے گا، کیا اللہ رب العالمین اس فریضے کے لئے کسی دوسری قوم کو بھیجے گا.؟ نہیں، ہرگز نہیں، قیامت تک کے لئے یہ ذمہ داری مسلمانوں کے سر ہے، کہ وہ کافروں، ملحدوں، زندیقوں غرضیکہ دنیا کے تمام لوگوں کو بتائیں کہ اسلام کیا یے، اور اسلام کا لوگوں کے لئے تصور حیات اور طرز زندگی کیا ہے.
بہت سارے مفکرین جب مذاہب عالم پہ غور کرتے ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام پوری دنیا میں سب سے تیزی سے بڑھنے والا مذہب ہے، پھر جب وہ اس کی وجوہات پہ غور کرتے ہیں تو جہاں انہیں اس کے بہت سارے اسباب نظر آتے ہیں انہیں میں سے ایک اہم سبب "مسلمانوں کے عمدہ اخلاق” اور ان کا "دعوت دین کا فریضہ” ہوتا ہے، پھر جب وہ تجزیہ کرتے ہیں کہ آخر وہ کون سی وجہ ہے جس نے اسلام کو گھر گھر تک پہونچادیا تو وہ لکھنے پہ مجبور ہوجاتے ہیں کہ جمہوریت کی لہروں نے بھی اسلام کو بہت فائدہ پہونچایا، پہلے جن یوروپین ممالک میں اسلام کا نام تک لینا منع تھا، جب جمہوریت آئی، سارے مذاہب یکساں درجہ دیا گیا اور سب کو پھلنے پھولنے کے مواقع عطا کئے گئے، تو اسلام نے سب زیادہ جگہ حاصل کی، کیونکہ اسلام کے اندر مقناطیسی کشش ہے، یہ لوگوں کے اپنی طرف کھینچتا ہے، یہی وجہ ہے کہ گزشتہ سو ڈیڑھ سو سالوں میں یوروپ میں لوگ جتنی تیزی سے مسلمان ہوئے ہیں، اتنی تیزی سے شاید ہی کبھی ہوئے ہوں، یہاں تک کہ بعض رپورٹوں میں اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں بعض اہم یوروپین ممالک میں مسلمانوں کی تعداد اتنی بڑھ جائے گی کہ وہ اکثریت میں آجائیں گے.
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حاکمیت الہ اور مسلم ریاست کا ڈھنڈورا پیٹنے سے بہتر ہے کہ ایک مسلمان اٹھتے بیٹھے، جاگتے سوتے، ہر وقت اسلام کی نشر و اشاعت کے بارے میں سوچے، اور جہاں بھی رہے اسے اللہ رب العالمین کے بھٹکے ہوئے بندوں تک پہونچانے کی فکر میں لگا رہے، جب بھی موقع ملے، اور جہاں بھی موقع ملے، دعوت و تبلیغ اور اصلاح بین الناس کا فریضہ انجام دیتا رہے، یاد رہے اسلام میں ریاست اصل نہیں ہے، بلکہ دعوت و تبلیغ اصل ہے، "زمینی سطح پہ کام کرکے دلوں کو جیتنا ہوائی سطح پہ باتیں کرکے منافرت پھیلانے سے بہتر ہے”، جب اسے یہ معلوم ہے کہ ایک مسلمان چاہے ہندوستان میں رہے یا امریکہ میں، اگر اسے اپنے مذہب پہ عمل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے تو پھر خواہ مخواہ مسلم ریاست کا راگ الاپنے سے کوئی فائدہ نہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے